حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کبھی انسان بیرونی دشمن سے خوفزدہ ہوتا ہے لیکن اپنے اندرونی دشمن سے غافل رہتا ہے۔ مال کی محبت اور مقام و مرتبے سے حد سے زیادہ وابستگی انسان کے دین کو اندر سے کھوکھلا کر سکتی ہے۔
آیت اللہ آقا مجتبیٰ تہرانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک تنبیہ آموز روایت کے ذریعہ اس حقیقت کو بیان کیا ہے۔
محمد بن مسلم امام باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: «مَا ذِئْبَانِ ضَارِیَانِ فِی غَنَمٍ لَیْسَ لَهَا رَاعٍ هَذَا فِی أَوَّلِهَا وَ هَذَا فِی آخِرِهَا بِأَسْرَعَ فِیهَا مِنْ حُبِّ الْمَالِ وَ الشَّرَفِ فِی دِینِ الْمُؤْمِنِ»؛ (الکافی، ج ۲، ص ۳۱۵؛ بحارالأنوار، ج ۷۰، ص ۲۴)
’’جس ریوڑ کا کوئی چرواہا نہ ہو، اس میں دو خونخوار بھیڑیے، ایک ریوڑ کے ایک سرے سے اور دوسرا دوسرے سرے سے حملہ آور ہو کر جتنی تیزی سے اسے تباہ نہیں کر سکتے، اس سے زیادہ تیزی سے مال اور جاہ کی محبت مؤمن کے دین کو تباہ کر دیتی ہے۔‘‘
حضرت امام باقر علیہ السلام اس روایت میں پہلے ایک مثال بیان کرتے ہیں اور پھر اس کا اطلاق فرماتے ہیں۔
فرض کریں کہ ایک ایسا بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہے جس کا کوئی چرواہا نہیں، یعنی ہماری تعبیر میں چرواہا انہیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ دو بھیڑیے، ایک ریوڑ کے ایک سرے سے اور دوسرا دوسرے سرے سے ان بھیڑ بکریوں پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں ہلاک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ دونوں بھیڑیے بھیڑ بکریوں کو اتنی تیزی سے ہلاک نہیں کر سکتے جتنی تیزی سے مال کی محبت اور جاہ و منصب کی محبت مؤمن کے دین کو تباہ کر دیتی ہیں۔









آپ کا تبصرہ